Monday, 7 June 2021

پرانی شادی میں اکثر رات کو اٹھ کر

 پرانی شادی


میں اکثر رات کو اٹھ کر

میرے بستر پہ

سالوں کی مسافت پہ پڑے شوہر کو سوتا دیکھتی ہوں

سوچتی ہوں کہ نجانے کیا ہُوا ہو گا؟

کبھی بچوں کی فیسوں پہ ہوا جھگڑا

کسی بِل پہ ہوئی تکرار پہ غصہ

یا کھانے میں نمک مرچیں وجہ ہوں گی

میری یا اس کی اماں کے 

کسی طعنے نے بِس کی گانٹھ کا منتر پڑھا ہو گا

تو یہ کانٹے

کبھی بستر کبھی دل میں چُبھے ہوں گے

ہمارے درمیاں دنیا کے جھنجھٹ آ گئے ہوں گے

ہمیں فرصت نہیں تھی کہ کبھی ہم بیٹھ کے آرام سے یہ کانٹے چنتے

کبھی اک دوسرے کو یہ بتاتے کہ ہمارا پیار زندہ ہے

یہ سارے چونچلے بے کار لگتے تھے

نہ جانے کون سے خاموش سمجھوتے

ہماری عمر کی ڈھلواں پہ ہم نے اوڑھ رکھے ہیں

نہ جانے کتنے سالوں سے فقط ہم نام کے میاں بیوی ہیں

میں اکثر رات کو بستر پہ بیٹھی سوچتی ہوں کہ

تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لوں

پیار سے پوچھوں

سنو، کیا سو گئے ہو؟


ثمینہ تبسم

No comments:

Post a Comment