حرمتِ لفظ و معانی کی علمداری کی
میں نے کب راہِ محبت میں ریاکاری کی
یہ مِری پہلی محبت ہے جو اب تجھ سے ہوئی
اس سے پہلے تو زمانے میں اداکاری کی
جب بھی مشکل میں پکارا ہے کسی نے ہم کو
ساز و سامان دئیے اور کمک جاری کی
اس کی گلیوں میں پھرے اس کے تعاقب میں رہے
نوکری ہم نے کہاں عشق میں سرکاری کی
تجھ سے ملنے کی خبر پھیل گئی لوگوں میں
کتنی چالاکی سے احباب نے غداری کی
یہ علاقہ بھی محبت کے لیے ٹھیک نہیں
اس لیے جانے کی اس بستی سے تیاری کی
تیرے کوچے میں مجھے آنے سے روکے نہ کوئی
اس لیے میں نے تِرے یاروں سے بھی یاری کی
تیری بستی میں مِرے دوست کہاں قدر ہوئی
حافظ و سعدی و فردوسی و عطاری کی
عمر بھر ماں کی نصیحت پہ زمانے میں اسد
فاطمہؑ زہرا کے بچوں سے وفاداری کی
اسد اعوان
No comments:
Post a Comment