وہم و گماں کے سلسلے محسوس ہوتے ہو
تم مجھ کو میرے سامنے محسوس ہوتے ہو
اے میرے صحن کے کوئی بوسیدہ سے درخت
جھُولا جھُلاتے تم بڑے محسوس ہوتے ہو
تیرہ شبوں میں میرے نہ کچھ ہو جب آس پاس
کمرے میں جل رہے دِیے محسوس ہوتے ہو
دنیا کی سمت سے کبھی لوٹو تو یہ کہوں
سمجھاؤ مجھے کہ کیوں مِرے محسوس ہوتے ہو
خوش آمدید تم اگر آ ہی گئے ہو پاس
جاگے ہوئے تو رات کے محسوس ہوتے ہو
مدیحہ شوق
No comments:
Post a Comment