وفا کی لہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
قدیم شہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
کسی کے دُکھ میں میں خیانت کبهی نہیں کرتے
تو گویا دہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
خوشی سے پاک بدن رینگتے ہیں کیچڑ میں
سمے کی نہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
خزاں رسیدہ کیے ہیں جو موسمِ گُل نے
رُتوں کے زہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
درونِ شہر اجازت نہ تهی تنفس کی
نواحِ شہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
وہ دُهوپ ہے کہ ردائیں پناه مانگتی ہیں
بهری دوپہر میں کچھ لوگ جی رہے ابهی
ستم اُٹهانے کی عادت ہی پڑ گئی تاباں
دیارِقہر میں کچھ لوگ جی رہے ہیں ابهی
عبدالقادر تاباں
No comments:
Post a Comment