خامشی سے ہوتی رہی بات پردے میں
یہ دل کرتا رہا مناجات پردے میں
جانے کیسے مہکار ان تک جا پہنچی
چھپا کے رکھے تھے احساسات پردے میں
یونہی گماں سا ہوا تھا دن کے اجالے کا
چلی آئی تھی مگر رات پردے میں
بصارت نہیں بصیرت چاہیے دیکھنے کے لیے
دستار تک پہنچنے والے ہات پردے میں
ہم سادہ دل تھے کہ دمساز انھیں سمجھ بیٹھے
لوگ کر رہے تھے اپنی بات پردے میں
جانے کتنی ہی بلائیں ٹل جاتی ہیں سر سے
کوئی پھونکتا ہے مجھ پر آیات پردے میں
کنول بہزاد
No comments:
Post a Comment