سیز فائر
آج نہیں
دیکھو پیارے ہمسائے بس آج نہیں
آج بہت مشکل میں ہیں بس آج نہیں
گھاؤ عجب سے دل میں ہیں بس آج نہیں
اک دوجے سے لڑنے کو
اور مرنے کو اک عمر پڑی ہے
یوں کرتے ہیں
کچھ دن بندوقوں کے منہ بند کرتے ہیں
اور اس مشترکہ دشمن سے لڑتے ہیں
جس کی کوئی شکل ہے اور نہ مذہب کوئی
اس عفریت کی زد سے زندہ بچ نکلے تو
کل سرحد پر پھر سے گولی گولی کھیلیں گے
اک دُوجے کے خون سے کُھل کر ہولی کھیلیں گے
احمد فرہاد
No comments:
Post a Comment