فاصلے کو فیصلہ تو چاہئے
آپ، یا پھر آپ سا تو چاہئے
ہیں چمن کے پیرہن میں سلوٹیں
باغ کو بادِ صبا تو چاہئے
میں غزل ہوں اور تم ہو قافیہ
اب غزل کو قافیہ تو چاہئے
نوجوانی کا نشہ بھی خوب ہے
اس نشے کو بھی نشہ تو چاہئے
رنگ کیوں اُڑنے لگا ہے پھُول کا
تتلیوں سے پوچھنا تو چاہئے
ہجر نے تخلیقیت ہے بخش دی
شاعری کو حادثہ تو چاہئے
گھر میں اک میلہ لگانے کے لیے
آئینے کو توڑنا تو چاہئے
خود سے مل کر خودکلامی کے لیے
گھر میں تھوڑی سی جگہ تو چاہئے
محفلوں میں رنگ بھرنے کے لیے
خوب صورت شاعرہ تو چاہئے
جہاں آرا تبسم
No comments:
Post a Comment