تتلیاں وار نہ کر دیں کہیں دیوانے پر
اس کے گلدان سے اک پھُول اُٹھا لانے پر
وہ بھی رہ رہ کے پرندوں کی طرف دیکھتا ہے
میں بھی حیران ہوں اس شخص کے لوٹ آنے پر
عین ممکن ہے کہ میں سب سے کنارہ کر لوں
دوست اب طیش میں آ جاتے ہیں سمجھانے پر
اب کسی طور ہمیں راہیں بدلنی ہوں گی
روز کہتے ہیں یہی بات بچھڑ جانے پر
اس کی خواہش تھی خد وخال وہ دیکھے اپنے
اب جو نادم ہے مِرے آئینہ دِکھلانے پر
جب سے دیوانہ حسن اس بتِ کافر نے کیا
کوئی بھی عار کہاں حکم بجا لانے پر
عطاءالحسن
No comments:
Post a Comment