Monday, 7 June 2021

سب اپنے مفادات پہ خاموش کھڑے ہیں

 سب اپنے مفادات پہ خاموش کھڑے ہیں

ہم تیرے سوالات پہ خاموش کھڑے ہیں

لگتا ہے تمہیں یوں کہ نہیں وار کی طاقت

ہم دوست کسی بات پہ خاموش کھڑے ہیں

پہلے جو سناتے تھے بہت پیار کے قصے

اس وقت شکایات پہ خاموش کھڑے ہیں

دعویٰ تھا جنہیں رکھتے ہیں ہر بات پہ سبقت

وہ لوگ مِری بات پہ خاموش کھڑے ہیں

سب راز بتا بیٹھے جسے اپنا سمجھ کر

ہم اس کے بیانات پہ خاموش کھڑے ہیں

شہزاد خبر کب تھی کہ برسیں گی یہ آنکھیں

بے موسمی برسات پہ خاموش کھڑے ہیں


شہزاد جاوید

No comments:

Post a Comment