سب اپنے مفادات پہ خاموش کھڑے ہیں
ہم تیرے سوالات پہ خاموش کھڑے ہیں
لگتا ہے تمہیں یوں کہ نہیں وار کی طاقت
ہم دوست کسی بات پہ خاموش کھڑے ہیں
پہلے جو سناتے تھے بہت پیار کے قصے
اس وقت شکایات پہ خاموش کھڑے ہیں
دعویٰ تھا جنہیں رکھتے ہیں ہر بات پہ سبقت
وہ لوگ مِری بات پہ خاموش کھڑے ہیں
سب راز بتا بیٹھے جسے اپنا سمجھ کر
ہم اس کے بیانات پہ خاموش کھڑے ہیں
شہزاد خبر کب تھی کہ برسیں گی یہ آنکھیں
بے موسمی برسات پہ خاموش کھڑے ہیں
شہزاد جاوید
No comments:
Post a Comment