Monday, 7 June 2021

مسیحائی کیسی چلی اب کے پون

 مسیحائی


کیسی چلی اب کے پون

ہے آدمی ہی آدمی سے محترز

آماجگاہوں میں

ہوئے ہیں قید ہم

کرنے لگے

اک دوسرے سے ہم گریز

اب شہر کی گلیاں

بہت ویران ہیں، سنسان ہیں

ہُو کا ہے عالم ہر طرف

رقصاں ہے موت

بس بھوک ہے اور مفلسی

دیکھی نہیں انسان نے

انسان کی یہ بے بسی

اولاد آدم ایسے میں

غلطاں ہوئے ہیں سوچ میں

آہ و فغاں کی گونج ہے

بس خلق ہے

اب معجزوں کی منتظر

اُترے من و سلویٰ کوئی

شاید وہ اب

پشت پناہ آسمانی بھیج دے

پیاسوں کو پانی بھیج دے

ایسی وبا ہنگام میں

اور ایسے مرگِ عام میں

اللہ کے کتنے سپاہی

آ گئے ہیں

جاں ہتھیلی پر لیے

سر پر کفن باندھے ہوئے

اپنے جگر گوشوں

عزیزوں

جان سے پیاروں کو وہ

اپنے گھروں میں چھوڑ کر

نکلے محاذِ فرض پر

اُمید کا جھنڈا لیے

کرنے مسیحائی مِری

دیکھو مسیحا آ گئے


سعدیہ کوکب

No comments:

Post a Comment