کبھی شروع کبھی درمیاں میں جا نکلوں
جہاں سے چاہوں تیری داستاں میں جا نکلوں
زمین تیز بہت تیز گھوم جائے ابھی
میں اڑ کے اور کسی کہکشاں میں جا نکلوں
گمان ہوتے ہوئے بھی یقین کر بیٹھوں
یقین ہوتے ہوئے بھی گماں میں جا نکلوں
یہ تارکولی سڑک اب سفید ہو جائے
یہ پل اتر کے نئے کارواں میں جا نکلوں
زمین والے مجھے ڈھونڈتے ہی رہ جائیں
میں اپنی لکھی ہوئی داستاں میں جا نکلوں
ابھی ابھی، اسی لمحے، یہیں، یہیں کے یہیں
میں چاہتا ہوں تِرے جسم و جاں میں جا نکلوں
عمران شمشاد
No comments:
Post a Comment