Monday, 7 June 2021

آنکھوں میں اعتکاف کا حق بھی نہیں مجھے

 آنکھوں میں اعتکاف کا حق بھی نہیں مجھے

کیا خواب کے طواف کا حق بھی نہیں مجھے

کیا مجھ میں ایک دل کا دھڑکنا بھی جُرم ہے

کیا عین، شین، قاف کا حق بھی نہیں مجھے

پاؤں کا ساتھ دیتی نہیں سر زمینِ خاک

اور سیرِ کوہ کاف کا حق بھی نہیں مجھے

میری ہر ایک بات سے ہے اُس کو انحراف

وہ جس سے اختلاف کا حق بھی نہیں مجھے

رکھنا ہے مجھ کو عشق میں ہر لفظ کا خیال

اس بحر میں زحاف کا حق بھی نہیں مجھے

جانے بغیر جُرم کے دیتا ہے وہ سزا

مُجرم ہوں اعتراف کا حق بھی نہیں مجھے

اشکوں سے بھانپ لیتی ہے یہ خلقِ بے لحاظ

سو غم کے انعطاف کا حق بھی نہیں مجھے

زہرا بتول ہجر کی جاری ہے آب و تاب

اور اس میں ایتلاف کا حق بھی نہیں مجھے


زہرا بتول

No comments:

Post a Comment