Thursday, 17 March 2022

آؤ شبنم کے پانی میں جھانکیں

 آؤ

شبنم کے پانی میں جھانکیں

ہواؤں کے اڑتے ہوئے نرم جھونکوں سے کھیلیں

فضاؤں میں بکھرے ہوئے خواب ڈھونڈیں

جو بچپن میں ہم سے

زمانے نے چھینے تھے 

اور اہل دنیا کی چھت پر بکھیرے تھے

لوگوں سے، راہوں سے

اپنی کتابوں سے پوچھتا تھا خوابوں کی دنیا کہاں ہے

خدا کو پکاریں

جو ہر شے کے پردے میں پردہ ہے دیکھیں

وہ کس کس کی سنتا ہے

خوابوں میں جھانکیں

کہ خوابوں کے اندر وہ بستی ہے جو

خوش نصیبوں کی بستی ہے

اچھے خدا کے ارادوں کی بستی ہے

شاید وہیں

اپنے بچپن کے چھینے گئے خواب رہتے ہیں ہم سے بچھڑ کر

جدائی کے صدموں کو سہتے ہیں


جیلانی کامران

No comments:

Post a Comment