Thursday, 17 March 2022

کون گلشن میں رہے نرگس حیراں کی طرح

 کون گلشن میں رہے نرگس حیراں کی طرح

آؤ چمکا دیں اسے مہر درخشاں کی طرح

عمر بھر راہ نوردی کا رہا ہم کو جنوں

خار زاروں سے بھی گزرے ہیں گلستاں کی طرح

تار باقی ہیں جو دو چار گریباں میں مِرے

ٹوٹ جائیں نہ کہیں تار رگ جاں کی طرح

لوگ کہتے ہیں کہ ہو باغ میں لیکن ہم کو

یاں کہ ہر شے نظر آتی ہے بیاباں کی طرح

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

دور ہی ہم سے رہو چشمۂ حیواں کی طرح

ہم کو بھاتا ہے چمن دل سے مگر کیا کیجے

اس میں آرام نہیں گوشۂ زنداں کی طرح

دال گلتی نہیں بستی میں ہماری عرشی

آؤ ویرانے ہی میں بیٹھ لیں انساں کی طرح


امتیاز علی عرشی

No comments:

Post a Comment