Friday, 18 March 2022

دشمن کو ہے گمان مجھے کچھ خبر نہیں

 دشمن کو ہے گمان مجھے کچھ خبر نہیں

میری یہ مصلحت ہے کہ میں بے خطر نہیں

کیا دشمنی ہے صاحبِ دستار عشق ہے

سب کچھ لٹا ئیے جہاں یہ وہ نگر نہیں

ہٹئیے ہماری راہ سے اب جانے دیجیے

جس پر چلے تھے ہم کبھی یہ وہ ڈگر نہیں

کہئیے ہمارے سامنے ہم سب سنیں گے پر

اب سچ سنائیے گا یہاں کچھ مکر نہیں

جو کچھ کیا ہے آپ نے ہم نے سہا ہے سب

اپنی کھلی یہ جنگ ہے یعنی مفر نہیں

لفظوں سے دیں گے مات کہ اب ہر بساط پر

جس میں مجھے کمال ہے تجھ کو ہنر نہیں

ہر بازی جیت کر بھی کبھی یہ نہ بھولئے

وہ زیر بھی کر سکتا ہے ہر جا زبر نہیں


ماوٰی سلطان

No comments:

Post a Comment