دشمن کو ہے گمان مجھے کچھ خبر نہیں
میری یہ مصلحت ہے کہ میں بے خطر نہیں
کیا دشمنی ہے صاحبِ دستار عشق ہے
سب کچھ لٹا ئیے جہاں یہ وہ نگر نہیں
ہٹئیے ہماری راہ سے اب جانے دیجیے
جس پر چلے تھے ہم کبھی یہ وہ ڈگر نہیں
کہئیے ہمارے سامنے ہم سب سنیں گے پر
اب سچ سنائیے گا یہاں کچھ مکر نہیں
جو کچھ کیا ہے آپ نے ہم نے سہا ہے سب
اپنی کھلی یہ جنگ ہے یعنی مفر نہیں
لفظوں سے دیں گے مات کہ اب ہر بساط پر
جس میں مجھے کمال ہے تجھ کو ہنر نہیں
ہر بازی جیت کر بھی کبھی یہ نہ بھولئے
وہ زیر بھی کر سکتا ہے ہر جا زبر نہیں
ماوٰی سلطان
No comments:
Post a Comment