بوڑھا استاد
تیس برس میں چاند اور سورج
اور زمانے دیکھے
دنیا کی محراب میں چھپ کر
آڑھے ترچھے، الٹے سیدھے
اور افسانے دیکھ رہے ہیں
چشمہ دیکھا، گدلا گدلا
میں نے پانی صاف کیا تھا
اپنے خون کی کمیابی سے
دن اور رات کی بے تابی سے
پچھلے روز کے آئینے کو
خود میں نے شفاف کیا تھا
جیلانی کامران
No comments:
Post a Comment