Sunday, 13 March 2022

تجھ کو اپنا لکھوں خود کو تیرا لکھوں

 تجھ کو اپنا لکھوں خود کو تیرا لکھوں

ایسا ممکن نہیں ہے میں ایسا لکھوں

وصل کا دن نہیں ہے نعم البدل

ہجر کے دن کٹے کیسے نوحہ لکھوں

ہر جگہ پر حکومت چلے مرد کی

یعنی عورت کو کوئی کھلونا لکھوں

کالا کاغذ کو کرتے میں تھک تو گئی

کاش تجھ کو محبت کا قصہ لکھوں

زندگی میری اسٹیج کی طرح ہے

عمر بھر جو گزاری ڈرامہ لکھوں


سنبل چودھری

No comments:

Post a Comment