تجھ کو اپنا لکھوں خود کو تیرا لکھوں
ایسا ممکن نہیں ہے میں ایسا لکھوں
وصل کا دن نہیں ہے نعم البدل
ہجر کے دن کٹے کیسے نوحہ لکھوں
ہر جگہ پر حکومت چلے مرد کی
یعنی عورت کو کوئی کھلونا لکھوں
کالا کاغذ کو کرتے میں تھک تو گئی
کاش تجھ کو محبت کا قصہ لکھوں
زندگی میری اسٹیج کی طرح ہے
عمر بھر جو گزاری ڈرامہ لکھوں
سنبل چودھری
No comments:
Post a Comment