طلب کے رنگ نئے فاصلوں کے وار نئے
شکستِ عشق نے بخشے ہیں کاروبار نئے
میں اس ساتھ بھی بے خال و خد رہا برسوں
شباہتوں کو دئیے جس نے اعتبار نئے
ابھی سے کیا ہو گرانباریوں کا اندازہ
دیارِ عشق میں آئے ہیں بے دیار نئے
طلسمِ عشق جو بکھرا تو پھر بچھڑنے کو
ہمارے پاس بہانے بھی تھے ہزار نئے
سرور جاوید
No comments:
Post a Comment