Sunday, 13 March 2022

بندگی خواب میں سمٹ جائے

 بندگی خواب میں سمٹ جائے

شاہ زادی گلے لپٹ جائے

درد ایسا کہ اک دھماکہ ہو

اور سارا وجود پھٹ جائے

ایک ہچکی سنائی دے تم کو

پھر اچانک ہی کال کٹ جائے

ساتھ چلتے ہوئے بچھڑ جائیں

راستہ حادثوں میں بٹ جائے

موت سینے سے آ لگے سید

زندگی راستے سے ہٹ جائے


داؤد سید

No comments:

Post a Comment