Sunday, 13 March 2022

کب سے موہوم امیدوں کا صلہ رکھا ہے

 کب سے موہوم امیدوں کا صلہ رکھا ہے

تیری یادوں کا بہت اونچا دیا رکھا ہے

سن کے مجبور تمنا کی سسکتی آہیں

لوریاں دے کے اسے دل نے سلا رکھا ہے

عمر گزری ہے مگر خود سے جدا کر نہ سکے

بھولنے والے تِری یاد میں کیا رکھا ہے

ساقیا! مہر بلب کر کے صلہ کیا پایا

حشر کچھ اور خموشی نے بپا رکھا ہے

یاد بھی کر نہ سکے بھول بھی پائے نہ جسے

اک وہی عہد وہ پیمانِ وفا رکھا ہے

اس کی تعبیر بھلا کون کرے گا صادق

جاگتی آنکھوں نے جو خواب سجا رکھا ہے


صادق باجوہ

No comments:

Post a Comment