Sunday, 13 March 2022

پڑ گئی دل پر میرے افتاد کیا

 پڑ گئی دل پر میرے افتاد کیا

عشق کافر کر گیا برباد کیا

جس کو پہروں ہوش تک آنا نہ ہو

اس میں ہو گی طاقتِ فریاد کیا

تجھ میں جرأت ہے تو کچھ خطرہ نہیں

کر سکے گی چرخ کی بیداد کیا

دل ہی جب اپنا ہوا ایذا‌ طلب

چاہیں اس کے ظلم کی ہم داد کیا

خواب میں بھی آپ جب آتے نہیں

رہ سکوں گا پھر بھلا میں شاد کیا

دل کو بہلانا ہی گر منظور ہو

پھول سے جنگل نہیں آباد کیا

آپ بیتی سے ہمیں فرصت نہیں

لے کے بیٹھیں قصۂ فرہاد کیا

دیکھنا ہو تو شکوۂ فقر دیکھ

شانِ جَم کیا، شوکتِ شداد کیا

مہرباں ہے تجھ پہ وہ کیوں ان دنوں

اس کو سمجھا عرشی ناشاد کیا


امتیاز علی عرشی

No comments:

Post a Comment