Tuesday, 22 March 2022

کون سے باغ میں جا کر ہو آئے

 کون سا باغ


کون سے باغ میں جا کر ہو آئے

دل کی ہر بات سنا کر ہو آئے

ایک ساعت کو جہاں دیکھا کئی چہرے تھے

خوش نما بزم میں ہر ایک طرف

پھول کے ادھ کھلتے ہوئے سہرے تھے

اک عجب آب و ہوا بکھری تھی

جس کے چلنے سے سحر اور بہت نکھری تھی

میں نے ہر سمت کہا میں ہوں، یہ تم ہو؟

تو ہے؟

ایسے عالم میں یہ کیا خوشبو ہے؟

اک عجب وقت رہا دید کا دیکھا پایا

محفل راہ میں جس جس کو زمیں پر دیکھا

اس کو اس باغ میں چلتے پایا


جیلانی کامران

No comments:

Post a Comment