Monday, 14 March 2022

کل رات وہ آسمانوں سے اترا بہت خوش ہوا

 آخری رائے


کل رات وہ آسمانوں سے اترا بہت خوش ہوا

بہت خوش ہوا جیسے گہرے سمندر

غضب ناکیوں میں اچھلتے ہیں یا آسماں پر فرشتے

قبول عبادت پہ مسرور ہوتے ہیں

اس نے کہا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوا

جو میں دیکھتا تھا وہ میں دیکھتا تھا

جو وہ دیکھتا تھا وہ شیشے میں خود اس کا اپنا ہی چہرہ تھا

ظاہر نہ مخفی نہ واضح

فقط ایک ممکن کہ ہوتا نہ ہوتا

اس نے یہ دیکھ کر

اپنی ہر کامیابی کی فہرست ترتیب دی اور

آخر میں لکھا زمین پر خدا کی توقع

نہ پوری ہوئی تھی نہ پوری ہوئی ہے

جسے ہم نے آدم کہا تھا 

وہ مٹی کا بے کار بے اصل دھوکا تھا

دھوکا ہی ثابت ہوا

اس سے کچھ نہ ہوا

فضاؤں میں نیلی ہواؤں میں دوزخ میں جنت میں

اقوام عالم کی محفل سراؤں میں

اس بے نوا کا تمسخر اڑا

جسے میں نے بر وقت روکا تھا


جیلانی کامران

No comments:

Post a Comment