کشمیر کے ہر اک بچے کے
ہونٹوں پہ ایک ہی نعرہ ہے
کشمیر تو صرف ہمارا ہے
کشمیر تو صرف ہمارا ہے
کبھی جوش کو دبتے دیکھا ہے
کبھی جذبہ مرتے دیکھا ہے
کبھی ظلم و تشدد کے آگے
سچائی کو جُھکتے دیکھا ہے
دریا کے تلاطم کو بھی کبھی
تنکوں سے رُکتے دیکھا ہے
ہم عزم و شجاعت کے پیکر
جاں اپنی ہتھیلی پر لے کر
طوفانوں سے ٹکراتے ہیں
جاں دے کے امر ہو جاتے ہیں
کتنے ہی دامن تار ہوئے
سر کتنے پیشِ دار ہوئے
اور کیا کیا کچھ پامال ہوا
بے داغ وفائیں لٹتی رہیں
بہنوں کی ردائیں چھنتی رہیں
ماؤں کی دعائیں روتی رہیں
بکھری ہیں فضاؤں میں آہیں
بے چین صدائیں چیخوں کی
ہر سمت ہے شورِ ظلم و ستم
اک سیلِ گناہ، اک موجِ ہوس
زنجیرِ الم، لیکن ہے قسم
اٹھیں گے لیے ہاتھوں میں علم
لہرائیں گے الفت کا پرچم
گلیوں میں لہو جو بہتا ہے
وہ بانگِ دہل یہ کہتا ہے
ہو جائیں گے ہم سب سینہ سپر
ہر بندِ بلا کو ٹھکرا کر
ہر تیغ و تبر کو شرما کر
سینوں میں لہو کو گرما کر
توڑیں گے فصیلِ شب کا گھمنڈ
کشمیر تو لینا ہے اک دن
کشمیر جو صرف ہمارا ہے
کشمیر تو صرف ہمارا ہے
ثریا حیا
No comments:
Post a Comment