Monday, 14 March 2022

کشمیر تو صرف ہمارا ہے

 کشمیر کے ہر اک بچے کے

ہونٹوں پہ ایک ہی نعرہ ہے

کشمیر تو  صرف ہمارا ہے 

کشمیر تو صرف ہمارا ہے

کبھی جوش کو دبتے دیکھا ہے

کبھی جذبہ مرتے دیکھا ہے

کبھی ظلم و تشدد کے آگے

سچائی کو جُھکتے دیکھا ہے

دریا کے تلاطم کو بھی کبھی

تنکوں سے رُکتے دیکھا ہے

ہم عزم و شجاعت کے پیکر

جاں اپنی ہتھیلی پر لے کر

طوفانوں سے ٹکراتے ہیں

جاں دے کے امر ہو جاتے ہیں

کتنے ہی دامن تار ہوئے

سر کتنے پیشِ دار ہوئے

اور کیا کیا کچھ پامال ہوا

بے داغ وفائیں لٹتی رہیں

بہنوں کی ردائیں چھنتی رہیں

ماؤں کی دعائیں روتی رہیں

بکھری ہیں فضاؤں میں آہیں

بے چین صدائیں چیخوں کی

ہر سمت ہے شورِ ظلم و ستم

اک سیلِ گناہ، اک موجِ ہوس

زنجیرِ الم، لیکن ہے قسم

اٹھیں گے لیے ہاتھوں میں علم

لہرائیں گے الفت کا پرچم

گلیوں میں لہو جو بہتا ہے

وہ بانگِ دہل یہ کہتا ہے 

ہو جائیں گے ہم سب سینہ سپر

ہر بندِ بلا کو ٹھکرا کر

ہر تیغ و تبر کو شرما کر

سینوں میں لہو کو گرما کر

توڑیں گے فصیلِ شب کا گھمنڈ

کشمیر تو لینا ہے اک دن

کشمیر جو صرف ہمارا ہے 

کشمیر تو صرف ہمارا ہے


ثریا حیا

No comments:

Post a Comment