Monday, 14 March 2022

سخن کی اپنے نہ جانے حیات ہو کہ نہ ہو

 سخن کی اپنے نہ جانے حیات ہو کہ نہ ہو 

کسی کی بزم میں پھر اپنی بات ہو کہ نہ ہو

ابھی تو عیش کے دن ہیں، مگر خدا معلوم 

شریکِ غم بھی شریکِ حیات ہو کہ نہ ہو

وہ جس کے بعد بہت دیر تک سویرا رہے 

نصیب شہر میں اب ایسی رات ہو کہ نہ ہو 

جو متقی ہیں انہیں کو یہ ڈر بھی رہتا ہے 

کہ سہل اپنے لیے پل صراط ہو کہ نہ ہو

ارادہ کرتا ہوں، چلتا ہوں، لوٹ آتا ہوں

اب اس گلی میں وہ پہلی سے بات ہو کہ نہ ہو 

جلانے والے مجھے، اتنا سوچ لے تو بھی

تری خوشی کو بھی حاصل ثبات ہو کہ نہ ہو

تجھے مٹا کے بھی اشعر مجھے سکوں نہ ملا 

میں جس کو مات سمجھتا ہوں مات ہو کہ نہ ہو


منیف اشعر

No comments:

Post a Comment