Monday, 14 March 2022

کانٹوں کی حکومت میں نزاکت تھی بریدہ

 کانٹوں کی حکومت میں نزاکت تھی بریدہ

مقتل کے تعاقب میں عداوت تھی بریدہ

معصوم امیدوں کہ جہاں پر تھے اڑے سر

سیہون کے زاہدوں کی بشارت تھی بریدہ

ہر روز میں پڑھتا ہوں جگر گوش فسانے

اخبار کی سرخی کی عبارت تھی بریدہ

اک عمر لکھی ہم نے جو تابندہ کتابیں

اشعار کہ مکتب کی تجارت تھی بریدہ

ایمان کا پیمانہ سلامت تھا ضمن میں

تقویٰ کی امامت میں نجاست تھی بریدہ

افلاس کی بستی میں اماوس کا تماشا

مظلوم نگاہوں کی شجاعت تھی بریدہ

معیوب ارادوں سے ہے زر بانٹ رہا تو

زردار! تِری شوقِ سخاوت تھی بریدہ

انصاف عمر جیسا کہاں ان میں مشیرو

اس دور کے شاہوں کی خلافت تھی بریدہ

ساگر نے کئی بار دہائی تو دی، لیکن

عادل تِرے آنگن کی عدالت تھی بریدہ


ساگر اعجاز

No comments:

Post a Comment