کانٹوں کی حکومت میں نزاکت تھی بریدہ
مقتل کے تعاقب میں عداوت تھی بریدہ
معصوم امیدوں کہ جہاں پر تھے اڑے سر
سیہون کے زاہدوں کی بشارت تھی بریدہ
ہر روز میں پڑھتا ہوں جگر گوش فسانے
اخبار کی سرخی کی عبارت تھی بریدہ
اک عمر لکھی ہم نے جو تابندہ کتابیں
اشعار کہ مکتب کی تجارت تھی بریدہ
ایمان کا پیمانہ سلامت تھا ضمن میں
تقویٰ کی امامت میں نجاست تھی بریدہ
افلاس کی بستی میں اماوس کا تماشا
مظلوم نگاہوں کی شجاعت تھی بریدہ
معیوب ارادوں سے ہے زر بانٹ رہا تو
زردار! تِری شوقِ سخاوت تھی بریدہ
انصاف عمر جیسا کہاں ان میں مشیرو
اس دور کے شاہوں کی خلافت تھی بریدہ
ساگر نے کئی بار دہائی تو دی، لیکن
عادل تِرے آنگن کی عدالت تھی بریدہ
ساگر اعجاز
No comments:
Post a Comment