Monday, 21 March 2022

قدم دو قدم چل کے تھک سا گیا ہے

 قدم دو قدم چل کے تھک سا گیا ہے

ہمارے مقدر کا انساں

درختوں نے اپنے کئی سارے پژمردہ پتے

ہواؤں کے گھر سے بلائے ہیں

تھکے ہارے رہرو پہ سایہ کریں

اس کی خاطر شکستہ دلوں کا کوئی گیت

سب مل کے گائیں

زمیں نے کہا ہے، یہ انساں نہیں تھا

وگرنہ یوں رستے میں اپنے ارادے کی ہتک نہ کرتا

یوں اپنے ہی سائے سے بے کار خائف نہ ہوتا

نہ منزل سے گھبرا کے رستے میں گرتا

یوں اپنے گھرانے کی توہین کرتا

ہمارے مقدر کا انسان منزل بہ منزل

ستاروں سے گزرا ہے، بزم نجوم و قمر جگمگا کر

نشان قدم بن گئی ہے

شکستہ دلوں کا صنم بن گئی ہے

خدائی کے پھیلے ہوئے سلسلے ہیں حرم بن گئی ہے


جیلانی کامران

No comments:

Post a Comment