Monday, 21 March 2022

کیسے غلط کہوں اسے چاہے غلط کرے

 کیسے غلط کہوں اسے چاہے غلط کرے

اس کی خطا بھی ہو تو یہ دل معزرت کرے

کہنا طبیبِ جاں سے ذرا دیر مت کرے 

ورنہ وہیں سے کہہ دے؛ خدا مغفرت کرے

دل بھی اسی کے پاس ہے غم بھی اسی کا ہے

اب اس کو اختیار ہے جس کو غلط کرے

دھوکا وہ بندگانِ خدا ہی کو کیوں نہ دے 

ایسی خدا عطا جسے معصومیت کرے

کہنا ہے ان کا؛ شاذ بڑا دل نواز ہے

خوبی اِسی کو کہتے ہیں دشمن صفت کرے


شہزاد احمد شاذ 

No comments:

Post a Comment