کیسے غلط کہوں اسے چاہے غلط کرے
اس کی خطا بھی ہو تو یہ دل معزرت کرے
کہنا طبیبِ جاں سے ذرا دیر مت کرے
ورنہ وہیں سے کہہ دے؛ خدا مغفرت کرے
دل بھی اسی کے پاس ہے غم بھی اسی کا ہے
اب اس کو اختیار ہے جس کو غلط کرے
دھوکا وہ بندگانِ خدا ہی کو کیوں نہ دے
ایسی خدا عطا جسے معصومیت کرے
کہنا ہے ان کا؛ شاذ بڑا دل نواز ہے
خوبی اِسی کو کہتے ہیں دشمن صفت کرے
شہزاد احمد شاذ
No comments:
Post a Comment