Monday, 21 March 2022

اب کہاں عہد نبھانے والے کھو گئے دوست پرانے والے

 اب کہاں عہد نبھانے والے

کھو گئے دوست پرانے والے

نم ہوئے دیدے فقط پل بھر کو

کب رہے اشک بہانے والے

کون جانے کہ کہاں رہتے ہیں

اب وہ روداد سنانے والے

پھول ناپید ہوئے ہیں اب کے

رنگ عارض سے چرانے والے

پھر کبھی لوٹ کے آئے ہی نہیں

دشت میں چھوڑ کے جانے والے

کیا غرض ان سے ہمیں کیا لینا

سوچتے کیا ہیں زمانے والے

اب وہ انداز تمھارے بھی کہاں

رخ پہ زلفوں کو گرانے والے

اڑ گئے صحن چمن سے طائر

دھن محبت کی سنانے والے

اب نہ ترکش سے نکل پائیں گے

تیر نظروں کے نشانے والے

ڈوب جاتے ہیں لب ساحل یوں

ہاتھ سے ہاتھ چھڑانے والے

اب خفا ہو بھی تو کِن سے کہ نہیں

وہ غزالی کو منانے والے


امجد کلیم غزالی

No comments:

Post a Comment