اب کہاں عہد نبھانے والے
کھو گئے دوست پرانے والے
نم ہوئے دیدے فقط پل بھر کو
کب رہے اشک بہانے والے
کون جانے کہ کہاں رہتے ہیں
اب وہ روداد سنانے والے
پھول ناپید ہوئے ہیں اب کے
رنگ عارض سے چرانے والے
پھر کبھی لوٹ کے آئے ہی نہیں
دشت میں چھوڑ کے جانے والے
کیا غرض ان سے ہمیں کیا لینا
سوچتے کیا ہیں زمانے والے
اب وہ انداز تمھارے بھی کہاں
رخ پہ زلفوں کو گرانے والے
اڑ گئے صحن چمن سے طائر
دھن محبت کی سنانے والے
اب نہ ترکش سے نکل پائیں گے
تیر نظروں کے نشانے والے
ڈوب جاتے ہیں لب ساحل یوں
ہاتھ سے ہاتھ چھڑانے والے
اب خفا ہو بھی تو کِن سے کہ نہیں
وہ غزالی کو منانے والے
امجد کلیم غزالی
No comments:
Post a Comment