Monday, 21 March 2022

زمانے کے سبھی دلکش نظارے

 زمانے کے سبھی دلکش نظارے

زکوٰۃ حسن لگتے ہیں تمہارے

محبت کا کوئی امکاں نہیں جب

تو پھر دل کیوں دھڑکتے ہیں ہمارے

یقیں جانو مِری جاں! ہم ازل سے

تمہارے ہیں تمہارے ہیں تمہارے

کسی کا چاند چہرہ یاد آیا

فلک پہ جس گھڑی چمکے ستارے

وصال و ہجر دونوں جان لیوا

خدا را کوئی اپنا دل نہ ہارے

ہم اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں

رگ جاں سے قریں ہے جو ہمارے

وہ بچپن یاد آتا ہے کسی کا

میں جب دیکھوں کہیں اڑتے غبارے

وصالِ یار ناممکن ہے ایسے

کہ جیسے اک ندی کے دو کنارے

زمانے بھر سے ہم سو بار جیتے

کسی سے ہم مگر سو بار ہارے

سہارے ڈھونڈنے والوں کی طارق

نہیں لگتی کبھی کشتی کنارے


طارق ملک

No comments:

Post a Comment