Monday, 21 March 2022

نظر سے جس کی اب مستور ہوں میں

 نظر سے جس کی اب مستور ہوں میں

اسی کی یاد سے معمور ہوں میں

چٹانوں کی طرح مدِ مقابل

مگر اندر سے چکنا چور ہوں میں

شبِ ظلمت نہیں حوا کی بیٹی

اجالا ہوں سحر کا نور ہوں میں

وفا کا پیار کا پیکر ہوں، لیکن

جو ہو صیاد تو زنبور ہوں میں

ہوا لے کر اڑی ہے زرد پتے

چمن میں نرگسِ رنجور ہوں میں

نشاں اس کی جبیں کا کہہ رہا ہے

تجلی سے جلا ہوں طور ہوں میں

انا ہوں میں،۔ انا کا پاس بھی ہے

خوشامد سے تو کوسوں دور ہوں میں


نفیسہ سلطانہ انا

No comments:

Post a Comment