کوئی جینے کا جواز اور نکالا جائے
زندگی تجھ کو کس انداز سے ڈھالا جائے
جب بھی جینے کی لگن ماند پڑے بجھنے لگے
راکھ سے کوئی شرر ڈھونڈ نکالا جائے
لوگ راضی بہ رضا ہو کے جھکا دیتے ہیں سر
اس کا الزام نہ تقدیر پہ ڈالا جائے
گھر سے خط آئے تو ہر لفظ کئی بار پڑھوں
پھر کئی روز تلک دل نہ سنبھالا جائے
کشمکش کتنے دوراہوں کی سہی ہے اب تک
دل کسی اور تذبذب میں نہ ڈالا جائے
میرے ماں باپ نے کچھ ایسی دعا دے دی ہے
میں جہاں جاؤں مرے ساتھ اجالا جائے
عذرا نقوی
No comments:
Post a Comment