پانچواں موسم
بہت مصروف رہتا ہے
نئی دنیا بسانے میں
نئے موسم نئے رستے
سجانے میں
نئے ساتھی بنانے میں
ابھی فرصت کہاں اس کو
پلٹ کر آئینہ دیکھے
ابھی تو بے پناہ چہرے
ہزاروں خوش گماں آنکھیں
اسے اپنا بناتی ہیں
اسے دل میں سجاتی ہیں
اسے میں یاد کیوں آؤں
ابھی تو میں
سفر کی گرد میں گم ہوں
گلابی موسموں کی دسترس سے
دور ہوں کب سے
عجب سے درد میں گم ہوں
میں رسمِ زرد میں گم ہوں
میں اس کے بند کمرے میں
سجا اک آئینہ ہی ہوں
اسے فرصت کہاں اتنی
مجھے وہ اک نظر دیکھے
میں اس کا پانچواں موسم
اسے تب یاد آؤں گی
کہ جب کچھ بھی نہیں ہو گا
نہ کوئی رنگ کا موسم
نہ رسم سنگ کا موسم
رہے گا یاد کا موسم
دل برباد کا موسم
اسے تب یاد آؤں گی
بہت ہی یاد آؤں گی
کنول حسین
No comments:
Post a Comment