Sunday, 15 November 2020

بہت مصروف رہتا ہے نئی دنیا بسانے میں

 پانچواں موسم


بہت مصروف رہتا ہے

نئی دنیا بسانے میں

نئے موسم نئے رستے

سجانے میں

نئے ساتھی بنانے میں

ابھی فرصت کہاں اس کو

پلٹ کر آئینہ دیکھے

ابھی تو بے پناہ چہرے

ہزاروں خوش گماں آنکھیں

اسے اپنا بناتی ہیں

اسے دل میں سجاتی ہیں

اسے میں یاد کیوں آؤں

ابھی تو میں 

سفر کی گرد میں گم ہوں

گلابی موسموں کی دسترس سے

دور ہوں کب سے

عجب سے درد میں گم ہوں

میں رسمِ زرد میں گم ہوں

میں اس کے بند کمرے میں

سجا اک آئینہ ہی ہوں

اسے فرصت کہاں اتنی 

مجھے وہ اک نظر دیکھے

میں اس کا پانچواں موسم

اسے تب یاد آؤں گی

کہ جب کچھ بھی نہیں ہو گا

نہ کوئی رنگ کا موسم

نہ رسم سنگ کا موسم

رہے گا یاد کا موسم

دل برباد کا موسم

اسے تب یاد آؤں گی

بہت ہی یاد آؤں گی


کنول حسین

No comments:

Post a Comment