کل رات اک عجیب سی وحشت نے آ لیا
مجھ کو مرے وجود کی حیرت نے آ لیا
اک عکسِ نا تمام مرے آئینے میں تھا
پھر یوں ہوا کہ عکس کو صورت نے آ لیا
سب بال و پر اڑان لیے، حوصلہ لیے
میں چل پڑی تھی راہ میں قسمت نے آ لیا
وہ غول جو ملا تھا بیابان میں مجھے
دیکھا میانِ شہر تو حیرت نے آ لیا
اک عمر تیرے خواب کو آنکھیں نہ کھا سکیں
پھر یوں ہوا کہ نیند کو غفلت نے آ لیا
دیوار و در میں، آنکھ میں رقصاں ہیں آئینے
شہرِ فسوں تو کیا تجھے حیرت نے آ لیا
لٹتے ہیں خوابِ بے کساں اپنے دیار میں
گھر میں ہی جیسے ہم کو تو ہجرت نے آ لیا
چلنا ہے میرے ساتھ تو پھر حوصلہ کرو
یہ کیا کہ چلتے ساتھ ہی عجلت نے آ لیا
ثمینہ چیمہ
No comments:
Post a Comment