Sunday, 15 November 2020

کل رات اک عجیب سی وحشت نے آ لیا

 کل رات اک عجیب سی وحشت نے آ لیا

مجھ کو مرے وجود کی حیرت نے آ لیا

اک عکسِ نا تمام مرے آئینے میں تھا

پھر یوں ہوا کہ عکس کو صورت نے آ لیا

سب بال و پر اڑان لیے، حوصلہ لیے

میں چل پڑی تھی راہ میں قسمت نے آ لیا

وہ غول جو ملا تھا بیابان میں مجھے

دیکھا میانِ شہر تو حیرت نے آ لیا

اک عمر تیرے خواب کو آنکھیں نہ کھا سکیں

پھر یوں ہوا کہ نیند کو غفلت نے آ لیا

دیوار و در میں، آنکھ میں رقصاں ہیں آئینے

شہرِ فسوں تو کیا تجھے حیرت نے آ لیا

لٹتے ہیں خوابِ بے کساں اپنے دیار میں

گھر میں ہی جیسے ہم کو تو ہجرت نے آ لیا

چلنا ہے میرے ساتھ تو پھر حوصلہ کرو

یہ کیا کہ چلتے ساتھ ہی عجلت نے آ لیا


ثمینہ چیمہ

No comments:

Post a Comment