ہاں پہلے محبت جتاتی ہے دنیا
تو پھر زخم دل پر لگاتی ہے دنیا
ذرا قدر کرتی نہیں زندگی میں
مگر قبر آ کر سجاتی ہے دنیا
کتابوں کو پڑھ کر زمانے کو سمجھا
سبق زندگی کے سکھاتی ہے دنیا
سہارا نہیں دیتی مرتے ہوئے کو
جنازے کو آ کر اٹھاتی ہے دنیا
سمیرا یہ مکار لوگوں کا گھر ہے
ہم ایسوں کو کب راس آتی ہے دنیا
نہایت یہ ظالم ہے دنیا سمیرا
کوئی روئے تو مسکراتی ہے دنیا
سمیرا یوسف
No comments:
Post a Comment