Sunday, 15 November 2020

اپنی تو محبت کی اتنی سی کہانی ہے

 اپنی تو محبت کی اتنی سی کہانی ہے

ٹوٹی ہوئی کشتی ہے ٹھہرا ہوا پانی ہے

اک پھول کتابوں میں دم توڑ گیا لیکن

کچھ یاد نہیں آتا یہ کس کی نشانی ہے

بکھرے ہوئے پنوں سے یادیں سی جھلکتی ہیں

کچھ تیری کہانی ہے، کچھ میری کہانی ہے

ساون کی بہاروں میں نغمہ ہیں نہ جھولے ہیں

آکاش کی آنکھوں میں روتا ہوا پانی ہے

چہروں کی کتابوں میں الفاظ نہیں ہوتے

ہر ایک شکن خود میں اک پوری کہانی ہے

چہروں سے تو لگتا ہے سب بھول کے بیٹھے ہیں

ہم صرف مسافر ہیں، اک رات بِتانی ہے

مانا کہ انہیں اک ہی جھونکے نے گرایا ہے

ہر ٹوٹتے پتے کی اپنی ہی کہانی ہے


مصور فیروزپوری

No comments:

Post a Comment