آپ سے کوئی رسم و راہ نہیں
اب ہمارا کبھی نباہ نہیں
آپ جیسے لٹاتے رہتے ہیں
یہ زرِ وقت بے پناہ نہیں
شکر صد شکر ہم فقیروں میں
ہوسِ مال اور جاہ نہیں
دلِ بے تاب میں تمہارے لیے
پیار ہے، پیار تو گناہ نہیں
ہم ہیں سادہ مزاج اپنے لیے
محفلِ شعر واہ واہ نہیں
جیسا کچھ لوگ کہتے پھرتے ہیں
ایسا حالِ دلِ تباہ نہیں
سب رسومات سے بندھے ہوئے ہیں
شہر میں کوئی کج کلاہ نہیں
فیض یاب آپ سے زمانہ ہے
ایک سائل پہ ہی نگاہ نہیں
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment