ان کو جینے کے لیے خواب دکھانے ہوں گے
پاس مرنے کے لیے جن کے بہانے ہوں گے
صبح کافی نہیں اس شب کے مداوے کے لیے
تجھ کو روتے ہوئے یہ لوگ ہسانے ہوں گے
پھر وہی شام اداسی کی، وہی تنہائی
پھر تری یاد کے اب ناز اٹھانے ہوں گے
اس لیے غم کو میں سینے سے لگا لیتا ہوں
غم نہ ہوں گے تو یہاں کتنے ویرانے ہوں گے
چند بپھری ہوئی لہروں کی ہے نیت میں فتور
کھیلنے والے کناروں سے ہٹانے ہوں گے
کتنے برسوں سے جو میں سویا نہیں ہوں یارو
میرے حصے کے اسے خواب تو آنے ہوں گے
ہم کو جس موڑ پہ ہے سامنا طوفانوں کا
ہاں اسی موڑ پہ اب دیپ جلانے ہوں گے
زد میں رکھتے ہیں مجھے گوشۂ تنہائی میں
وہ سوالات سرِ بزم اٹھانے ہوں گے
حق و باطل میں جو تفریق نہیں کر سکتے
ایسے لوگوں کے یہاں تخت گرانے ہوں گے
جو تری دید سے محروم نہیں رہ سکتے
تجھ کو پہلو میں وہی لوگ بٹھانے ہوں گے
جانے کس کس کو جدا کرنا پڑے گا خود سے
جانے کس کس سے یہاں ہاتھ ملانے ہوں گے
کیا ضروری ہے نیا شہر بسانے کے لیے
مسندِ دل پہ نئے لوگ بٹھانے ہوں گے
اتنی حیرت سے نہ دیکھو اے زمانے والو
وقت جو راگ سکھاتا ہے وہ گانے ہوں گے
حسن جب عشق کا لہجہ نہ سمجھنے پائے
یوں سمجھ لیجے کہ پھر دام لگانے ہوں گے
تجھ کو عباس کہانی میں تسلسل کے لیے
جانے کتنے ابھی کردار نبھانے ہوں گے
عباس مرزا
No comments:
Post a Comment