شاید یہ کرب مجھ کو نئے خدوخال دے
اللہ میرا درد تیرے دل میں ڈال دے
اس آسرے پہ کاٹ رہی ہوں خزاں کے دن
شاید بہار پاؤں سے کانٹے نکال دے
جب تم تھے میرے ساتھ تو زندگی تھی خوشنما
اب پھر وہی خواب میری آنکھوں میں ڈال دے
میں نے تو تیری یاد کو سینچا سنبھال کر
اب کیسے کوئی دھڑکن کو دل سے نکال دے
مدت سے جل رہی ہوں جدائی کی آگ میں
یا رب عذابِ ہجر سے اب تو نکال دے
شگفتہ یاسمین
No comments:
Post a Comment