چاہیے تھا کوئی مضبوط حوالہ سچ کو
ہم نے پھر جھوٹ کے اندر سے نکالا سچ کو
کپکپاتے ہوئے لہجے پہ رعایت کیسی
یہ تو گرتے ہوئے اشکوں نے سنبھالا سچ کو
سوچنے والا بھی تہذیب تئیں سوچے گا
ڈھونڈنے والا نہیں ڈھونڈنے والا سچ کو
اپنے پُرکھوں کی نصیحت پہ سوال اٹھنے لگے
ایسی ترکیب سے لوگوں نے اچھالا سچ کو
اولیں نور کی چادر میں سمٹ آئے حروف
اس پہ آنکھوں نے ذرا اور اجالا سچ کو
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment