Sunday, 15 November 2020

چاہئے تھا کوئی مضبوط حوالہ سچ کو

 چاہیے تھا کوئی مضبوط حوالہ سچ کو

ہم نے پھر جھوٹ کے اندر سے نکالا سچ کو

کپکپاتے ہوئے لہجے پہ رعایت کیسی

یہ تو گرتے ہوئے اشکوں نے سنبھالا سچ کو

سوچنے والا بھی تہذیب تئیں سوچے گا

ڈھونڈنے والا نہیں ڈھونڈنے والا سچ کو

اپنے پُرکھوں کی نصیحت پہ سوال اٹھنے لگے

ایسی ترکیب سے لوگوں نے اچھالا سچ کو

اولیں نور کی چادر میں سمٹ آئے حروف

اس پہ آنکھوں نے ذرا اور اجالا سچ کو


مدثر عباس

No comments:

Post a Comment