Sunday, 15 November 2020

بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے

 بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے

یہ دل اب ناسمجھ بچہ نہیں ہے

میں ایسے راستے پہ چل رہی ہوں

جو منزل کی طرف جاتا نہیں ہے

محبت کی عدیم الفرصتی میں

اسے چاہا مگر سوچا نہیں ‌ہے

لبوں پر مسکراہٹ بن کے چمکا

جو آنسو آنکھ سے ٹپکا نہیں ہے

جب آئینہ تھا تب چہرہ نہیں تھا

ہے اب چہرہ تو آئینہ نہیں‌ ہے

میں ایسے سانحے پر رو رہی ہوں

ابھی جو آنکھ نے دیکھا نہیں ہے

جو شہرِ عشق کا باسی ہے راحتؔ

وہ تنہا ہو کے بھی تنہا نہیں‌ ہے


حمیرا راحت

No comments:

Post a Comment