بھوک
بھوک کافر کرے
تو زمیں کو وجودِ فلک بوجھ لگنے لگے
آسماں پر زمیں کے برابر کے دُکھ درد اُگنے لگیں
راستے، راہروؤں کو نگلنے لگیں
گنگناتی ہوں یادوں کی پُروائیاں
چُوڑیاں گِنتے لمحوں میں آنکھوں کی تاریکی بڑھنے لگے
دوستا! تیرے محلوں کو بارش کی بوندوں کی آواز چاہے لُبھائے
مگر میرے کھیتوں میں گندم پڑی ہے
تمہیں بادلوں سنگ اُڑتے ہوئے دیکھنا میری پہلی خوشی تھی
مگر ابر برسے تو خوابوں کی فصلیں زمیں بوس ہوں
لڑکیاں
کونے کُھدروں میں چُھپ چُھپ کے روتی پِھریں
بھوک ہنسنے لگے
اور کِواڑوں کے پیچھے سِسکتی ہوئی سانس دم توڑ دے
یسریٰ طارق
No comments:
Post a Comment