ان کی کیا قدر جن کی زبانیں بند ہیں
جان کی امان پاؤں
اور سلطان سے مل سکوں
تو کہوں؛ عالی جاہ
آپ کے شکاری کتوں نے
میرا لباس تار تار کر دیا ہے
آپ کے مخبر ہر وقت میرا تعاقب کرتے ہیں
ان کی آنکھیں، ان کے ناک، ان کے قدم
میرا پیچھا کرتے ہیں
جیسے کہ میں ان کی منزل ہوں
اور وہ میرا نصیب
انہوں نے میری بیوی پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی
اور میرے دوستوں کے نام اور پتے لکھ کر لے گئے ہیں
سلطان عالی شان
میں آپ کی بہری دیواروں تک آیا ہوں
اس امید پر
شاید اپنے غم اور دکھ کا اظہار کر سکوں
مگر آپ کی سپاہیوں نے
میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے
مجھے میرے ہی جوتے سے مارا ہے
عالی جاہ! میرے سلطان ذی وقار
ہماری آدھی قوم کے منہ میں زبان نہیں ہے
کیا قدر ہو سکتی ہے ان کی
جن کی زبانیں بند اور ہونٹ سِلے ہوں
ہماری نصف سے زیادہ آبادی
کیڑوں، مکوڑوں اور چوہوں کی طرح
چار دیواریوں میں بند ہے
اور جناب
کیا کوئی قوم اظہار کی آزادی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے؟
اگر شاہی چمچوں کے ظلم سے بچ کر
سلطان کے حضور پہنچ پاؤں
تو عرض کروں کہ عالی جاہ
آپ دو مرتبہ جنگ ہار چکے ہیں
کیونکہ آپ انسانی حقوق سے منکر ہیں
نزار قبانی
اردو ترجمہ؛ منو بھائی
No comments:
Post a Comment