Sunday, 4 July 2021

گفتار میں وہ اپنی بے باک ہو گیا ہے

 گفتار میں وہ اپنی بے باک ہو گیا ہے

جیسے کہ ہر کمی سے وہ پاک ہو گیا ہے

آنکھوں کی پُتلیوں میں ٹھہرا وہی ہے منظر

جس سے کہ دل ہمارا صد چاک ہو گیا ہے

رکھنا پڑے گا پھر بھی ہم کو بھرم وفا کا

مانا کہ جلتے جلتے دل خاک ہو گیا ہے

رکھوں میں کیسے آخر زخموں پہ اپنے مرہم

ہر غم میرے بدن کی پوشاک ہو گیا ہے

کہنے کو ہم سے بچھڑا اک شخص فوزیہ، پر

ماحول کیوں یہ سارا نمناک ہو گیا ہے؟


فوزیہ مغل

No comments:

Post a Comment