مجھ ایسے پاگل پہ گہری بندش نہیں کُھلے گی
بدن کے رستے سے تیری خواہش نہیں کھلے گی
وہ ایک کھڑکی تو بے تحاشہ کھلے گی، لیکن
اس ایک کھڑکی پہ کوئی بارش نہیں کھلے گی
مِری طلب پر کسی رسد کا اثر نہیں ہے
کسی خدا پر مِری پُرستش نہیں کھلے گی
اسے میں باتوں مِیں دُکھ بتاؤں تو کیوں بتاؤں
خموش ہونٹوں کی جس پہ لرزش نہیں کھلے گی
ہم اپنی نسلوں کو کیوں اندھیرے میں رکھ رہے ہیں
کہ ان عناصر کی ہم پہ سازش نہیں کھلے گی
سبھی کی آنکھوں میں کالے سوراخ کا فسوں ہے
کسی پہ زخموں کی یہ نمائش نہیں کھلے گی
دھمال ڈالو کہ تم پہ حیرت کے باب وا ہوں
زمیں کی ورنہ یہ دوہری گردش نہیں کھلے گی
کسے پڑی ہے کہ قہقہے کا مزاج سمجھے
کہ ہر کسی پر لبوں کی پوشش نہیں کھلے گی
جہان واقف ہے گُل کے شعری محرّکوں سے
بس ایک تم پر تمام کوشش نہیں کھلے گی
گل جہان
No comments:
Post a Comment