وبا کے دنوں میں
یہ ہم تم بڑے کم سمجھ ہیں
وبا کے دنوں میں بھُلائے ہوئے اور گمائے ہوئے کی پنہ ڈھونڈتے ہیں
شِکم سیر ہو کر
گناہوں میں کھو کر
مصلوں پہ اپنا خدا ڈھونڈتے ہیں
دوا میں ملاوٹ بھی کرتے ہیں
لیکن بوقت ضرورت دعا ڈھونڈتے ہیں
اور اس کے سکھائے فراموش کردہ طریقوں میں اپنی شفا ڈھونڈتے ہیں
کوئی ساحلوں پہ پڑی مچھلیوں کو سمندر میں ڈالو
کسی دل شِکستہ کی مایوس آنکھوں میں سپنے اُجالو
چلو شمعِ امید کی روشنی میں خدا کو تلاشو
تو دعویٰ ہے میرا
کہ وہ بے نشاں تم کو دِکھنے لگے گا
اگر تن برہنہ کی لاچار عُریانیوں سے نگاہیں ہٹا لو
نگاہیں چُرا لو مگر بے لباسی پہ آنچل اُچھالو
اگر آنکھ سِکوں کی پیہم چمکتی ہوئی روشنی کی چُبھن سہہ نا پائے
تو فاقوں سے مرتے ہوئے بے نواؤں کی دِلگیر چیخیں سنو
خدائے فلک پھر تمہیں اس زمیں پر سنائی بھی دے گا
دکھائی بھی دے گا
یسریٰ طارق
No comments:
Post a Comment