میری آنکھوں میں جو یہ لالی ہے
اس نے تیری جگہ سنبھالی ہے
ہم نے خوشوں میں وصل کی گندم
سات برسوں تلک بچا لی ہے
آخری چند ایک سالوں سے
سالی لفظوں کی قحط سالی ہے
عقلمندی، اے عقل کے دشمن
عشق والوں کی ایک گالی ہے
اک تِری یاد، اک مِرا دل ہے
ایک گلُشن ہے، ایک مالی ہے
عین عمر
No comments:
Post a Comment