شبِ سیاہ کا ہر ضابطہ مِٹاتے ہوئے
قدم قدم پہ ردائے سحر بچھاتے ہوئے
ہر ایک لمحہ گزارو پیمبروں کی طرح
محبتوں کے چراغوں کی لو بڑھاتے ہوئے
مصافِ زیست میں اک لمحۂ گرفت بھی ہے
یہ بات ذہن میں رکھ بستیاں جلاتے ہوئے
اے سیلِ رقصِ فنا! تھم کہ تھک گیا ہوں میں
جنازے پڑھتے ہوئے میتیں اٹھاتے ہوئے
قدم قدم پہ ہے در پیش کربلا کا سفر
قدم قدم پہ ہیں منظر لہو رُلاتے ہوئے
سید عارف
No comments:
Post a Comment