چاند تھا جھیل میں کنارے پر
اور ہم آپ کے سہارے پر
دفعتاً مڑ کے دیکھ سکتی ہوں
پہلے دل سے کوئی پکارے پر
اس بدن پر نہ کوئی آنچ آئے
جل گئے دھوپ میں ہمارے پر
آسمانی تھا رنگ آنچل کا
اور ستارے بھی تھے کنارے پر
تجھ سے بچھڑے تو جا ملے خود سے
یہ منافع ہوا خسارے پر
میں نے اُڑنا ہے آشیانے تک
کون دے گا مگر اُدھارے پر
ساری دنیا تیاگ سکتی ہوں
ایک ہی شخص کے اشارے پر
اس نے پانی پہ رکھ دئیے پاؤں
مچھلیاں آ گئیں کنارے پر
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment