Tuesday, 6 July 2021

اک دن مجھ سے بات کرو تم

 اک دن مجھ سے بات کرو تم


سِم نہیں بدلی اب تک میں نے

نمبر میرا اب بھی وہی ہے

اب بھی وہی معمول ہے میرا

صبح کرو یا رات کرو تم

اک دن مجھ سے بات کرو تم


بوجھ یہ دل پہ سہہ نہیں پایا

کچھ باتیں میں کہہ نہیں پایا

عشق نہ میرے ساتھ کرو تم

اک دن مجھ سے بات کرو تم


بھُول اگر کچھ تم سے ہوئی ہے

چُوک اگر کچھ مجھ سے ہوئی ہے

نمبر میرا اب بھی وہی ہے

صبح کرو یا رات کرو تم

اک دن مجھ سے بات کرو تم


فخر عباس

No comments:

Post a Comment